آن لائن بزنس کے فوائد
2۔ اپنی مرضی کی جگہ پر کیا جا سکتا ہے
جب سارا کام ہی کمپیوٹر پر کرنا ہے تو پھر جگہ کی پابندی کا کیا سوال؟ چاہے گھر بیٹھے اپنے بیڈ روم میں کریں یا آفس میں، دل چاہے تو شام کو لان میں بیٹھ کر کر لیں۔ یعنی کہ مطلب یہ ہوا کہ آن لائن بزنس ہر اس جگہ پر کیا جا سکتا ہے جہاں پر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہو۔ دوسرے کاروباروں سے اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو اس کے لیے آپ کو کسی اچھی لوکیشن پر دوکان یا دفتر کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر وہاں تک آمدورفت کے لیے ٹرانسپورٹ کی، پھر کبھی روڈ بلاک، بارش، گرمی سردی، کبھی سی ان جی کی قلت، غرضیکہ اتنے مسائل اور بکھیڑے ہوتے ہیں کہ اعصاب کو چٹخا کر رکھ دیتے ہیں۔
جبکہ آن لائن بزنس میں آپ کو کہیں نہیں جانا پڑتا، ہاں کبھی کبھار جب رقم وصول کرنی ہو تو اپنے بینک یا ویسٹرن یونین کے کسی دفتر میں جانا پڑ سکتا ہے۔ بعض آن لائن بزنس جیسے یو ٹیوب وغیرہ گھر کے گیراج میں شروع کیے گئے تھے اور پھر وہ۔۔۔۔روپے کے بیچے گئے۔ اس لیے آن لائن بزنس کی ایک خوبی یہ ہے کہ آپ گھر بیٹھے اپنی سہولت کی جگہ پر اسے آسانی سے کر سکتے ہیں۔
3۔ بغیر پابندی کے کیا جا سکتا ہے۔
اس کام کا سب سے بڑا فائدہ جو مجھے ذاتی طور پر پسند ہے وہ ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ آپ کا دل چاہے تو شلوار قمیض پہنیں یا نیکر پہن کر یہ کام کریں۔ چونکہ آپ نے باہر جانا ہی نہیں ہوتا تو کسی ڈریس کوڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔نہ آپ نے شرٹ اور ٹائی کا رنگ میچ کرنا ہوتا ہے اور اگر خاتون ہیں تو سینڈل اور دوپٹے کا رنگ منتخب کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
بعض لوگ صبح کے وقت خود کو کام کے لیے زیادہ تروتازہ محسوس کرتے ہیں اور کچھ شام کو سو کر اٹھنے کے بعد تو یہ سب آپ پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ یہ کام کس وقت کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو دن کو آفس میں جاب کرتے ہیں اور اپنی آمدنی بڑحانے کی غرض سے رات کو کمپیوٹر پر آن لائن کام بھی کر لیتے ہیں۔اسی طرح خواتین کے لیے اس کام میں سہولت ہے کیونکہ وہ دن کو اپنے گھریلو کام کاج کر لیتی ہیں اور شام یا رات کو فراغت کے لمحات میں چند گھنٹے کمپیوٹر پر کام کر کے اچھی خاصی آمدنی حاصل کر لیتی ہیں۔
غرضیکہ اس کام کا کوئی فکس ٹائم نہیں اور سب آپ پر منحصر ہے کہ آپ کب اس کام کو کرنا چاہتے ہیں۔ جتنا زیادہ وقت آپ اپنے آن لائن بزنس کو دیں گے اتنی زیادہ آمدنی حاصل ہو گی۔سب سے بڑی بات یہ کہ ہفتہ وار چھٹی کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ آپ کا اپنا بزنس ہے ادحر کمپیوٹر کا سوئچ آف اور بس چھٹی۔ کسی خوشی غمی کے موقعے پر دفتر والوں کو درخواست نہیں دینی پڑتی اور نہ ہی ان کی منتیں کرنا پڑتی ہیں کیونکہ آپ اپنے باس خود ہوتے ہیں۔
3۔ بغیر پابندی کے کیا جا سکتا ہے۔
اس کام کا سب سے بڑا فائدہ جو مجھے ذاتی طور پر پسند ہے وہ ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ آپ کا دل چاہے تو شلوار قمیض پہنیں یا نیکر پہن کر یہ کام کریں۔ چونکہ آپ نے باہر جانا ہی نہیں ہوتا تو کسی ڈریس کوڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔نہ آپ نے شرٹ اور ٹائی کا رنگ میچ کرنا ہوتا ہے اور اگر خاتون ہیں تو سینڈل اور دوپٹے کا رنگ منتخب کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
بعض لوگ صبح کے وقت خود کو کام کے لیے زیادہ تروتازہ محسوس کرتے ہیں اور کچھ شام کو سو کر اٹھنے کے بعد تو یہ سب آپ پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ یہ کام کس وقت کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو دن کو آفس میں جاب کرتے ہیں اور اپنی آمدنی بڑحانے کی غرض سے رات کو کمپیوٹر پر آن لائن کام بھی کر لیتے ہیں۔اسی طرح خواتین کے لیے اس کام میں سہولت ہے کیونکہ وہ دن کو اپنے گھریلو کام کاج کر لیتی ہیں اور شام یا رات کو فراغت کے لمحات میں چند گھنٹے کمپیوٹر پر کام کر کے اچھی خاصی آمدنی حاصل کر لیتی ہیں۔
غرضیکہ اس کام کا کوئی فکس ٹائم نہیں اور سب آپ پر منحصر ہے کہ آپ کب اس کام کو کرنا چاہتے ہیں۔ جتنا زیادہ وقت آپ اپنے آن لائن بزنس کو دیں گے اتنی زیادہ آمدنی حاصل ہو گی۔سب سے بڑی بات یہ کہ ہفتہ وار چھٹی کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ آپ کا اپنا بزنس ہے ادحر کمپیوٹر کا سوئچ آف اور بس چھٹی۔ کسی خوشی غمی کے موقعے پر دفتر والوں کو درخواست نہیں دینی پڑتی اور نہ ہی ان کی منتیں کرنا پڑتی ہیں کیونکہ آپ اپنے باس خود ہوتے ہیں۔
آن لائن بزنس کے فوائد 4۔ آمدنی کے لامحدود مواقع میں نے ایک اخبار میں آن لائن کام کا ایک اشتہار پڑھا جس میں لکھا تھا کہ 8000-15000 ماہوار کمائیں۔ تو میں سوچنے لگا کہ آن لائن بزنس یا کام میں تو ایسی کوئی حد نہیں ہو سکتی تو پھر کیسے ان صاحب نے کم از کم اور زیادہ سے زیادہ ہی قدغن لگا دی۔ یاد رکھیں کہ اصل آن لائن کام میں آمدنی کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ یہ کم از کم ایک سینٹ سے شروع ہو کر سینکڑوں، ہزاروں ڈالرز تک جا سکتی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ وسیع معلومات اور درست کام کا انتخاب کیا جائے۔ آن لائن بزنس کا شوق رکھنے والے اصحاب اور میرے اکثر سٹوڈنٹ کا سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہے کہ اس کام سے ہم کتنا کما سکتے ہیں ؟ تو میرا جواب بالکل سادہ سا ہوتا ہے کہ جتنا گڑ اتنا میٹھا۔ آج سے سات، آٹھ سال پہلے جب میں اس کام میں نووارد تھا تو اپنے ایک غیر ملکی استاد سے ای میل کے ذریعے پوچھا کہ دو مہینے ہو گئے ہیں انتظار کرتے لیکن ابھی تک کوئی خاص آمدنی نہیں ہوئی۔ تو وہ میری ویب سائیٹ دیکھنے کے بعد بولے: Oh, you...., you've just posted 23 articles and waiting for hundreds of dollars to roll in your account ? go and read page 72-97 of my e-book which I sent to you.... مطلب یہ کہ ابھی تک آپ نے اپنی سائیٹ پر صرف تیئس آرٹیکلز پبلش کیے ہیں اور یہ توقع کر رہے ہو کہ سینکڑوں ڈالرز تمہارے اکاﺅنٹ میں آنا شروع ہو جائیں، جاﺅ میری ای بک کا صفحہ نمبر 72سے 97 دوبارہ پڑھو۔ اکثر لوگوں کو اس بات کی توقع ہوتی ہے کہ آن لائن بزنس میں فوراً پیسے ملنا شروع ہو جاتے ہیں جو کہ سراسر غلط توقع ہے۔ یہ بھی عام بزنس کی طرح محنت اور وقت مانگتا ہے۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ جو جتنی زیادہ محنت اور تسلسل سے اپنے کام میں جتا رہے گا وہ اپنے لیے اتنا ہی زیادہ کما سکے گا۔ 5۔ کوئی پبلک ڈیلنگ نہیں آن لائن بزنس میں سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ کسی سے کوئی ڈیلنگ نہیں کرنا پڑتی۔نہ مول تول اور نہ ہی کسی کو کوئی چیز خریدنے پر آمادہ کرنا پڑتا ہے۔ میرے نزدیک selling یعنی کے کسی کو بات چیت کے ذریعے کچھ فروخت کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ آج سے گیارہ سال پہلے میرا ایک فرنیچر کا شو روم ہوتا تھا۔ ایک دن سیلز مین کی غیر موجودگی میں ایک کسٹمر تشریف لائے اور ایک بیڈ سیٹ کی قیمت پوچھی۔ میں نے بتایا کہ بیس ہزار کا ہے تو تڑک کر بولے کہ کیوں جی اس میں سونے کی کیلیں لگی ہوئی ہیں؟ مجھے سخت غصہ آ گیا اور میں یہ کہتے ہوئے واپس آفس میں آگیا کہ آپ میرے سیل مین کا انتظار کریں ، وہ آپ کو تفصیل بتائے گا۔ اس بات کا ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ عام کاروبار میں آپ کو انواع و اقسام کے کسٹمرز سے واسطہ پڑتا ہے لیکن آن لائن کام میں کسی سے کوئی بات چیت نہیں کرنا پڑتی۔ ساری تفصیل آن لائن موجود ہوتی ہے، دل ہے تو لے لیں نہیں تو کسی دوسری سائیٹ کا رخ کریں۔ |
No comments:
Post a Comment